ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بنگلور میں بھاری بارش؛ کئی علاقوں میں پانی بھرگیا؛ عام زندگی درہم برہم؛ کرناٹک کے مختلف اضلاع میں مزید 3 دن تیز بارش کا امکان 

بنگلور میں بھاری بارش؛ کئی علاقوں میں پانی بھرگیا؛ عام زندگی درہم برہم؛ کرناٹک کے مختلف اضلاع میں مزید 3 دن تیز بارش کا امکان 

Mon, 19 Oct 2020 22:56:05    S.O. News Service

بنگلورو،20؍اکتوبر (ایس او نیوز) کرناٹک کی راجدھانی بنگلور میں پیر کو ہوئی بھاری بارش کے نتیجے میں شہر کی کے آر مارکٹ،  شانتی نگر، کورمنگلا،  میجسٹک، آر آر نگر،  ملت ہلی،   کدمبا لے آوٹ،  سمیت شہر کے کئی علاقوں میں  پانی جمع ہوجانے سے عام زندگی درہم برہم ہوگئی۔

اتوار شام سے جاری بارش پیر تک جاری رہنے کی وجہ سے عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔ اتوار کو جو لوگ چھٹی ہونے کی بنا پر موٹر بائک پر سوار ہوکر گھروں سے باہر نکلے تھے، شام کو بارش شروع ہونے پر گھر واپس آنے میں سخت دشواری پیش آئی۔ رات دیر گئے تک کئی علاقے تالاب میں تبدیل ہوجانے سے  بھی سواریوں کو  ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے پر دشواری پیش آئی۔ کئی نشیبی علاقوں میں گھروں کے اندر پانی چلے جانے سے  مکینوں کو رات کو جاگ کر گذارنا پڑا۔ بارش کے چلتے کئی علاقوں میں درختوں کے اُکھڑ کر گرنے کی بھی وارداتیں پیش آئیں۔

ماہر موسمیات کے مطابق بحربنگال اور بحرعرب میں سمندری طوفان کے نتیجہ میں گزشتہ ایک ہفتہ سے کرناٹک میں ہورہی تیز بارش کا اثر اب اگلے تین چار دنوں تک بھی رہنے کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات نے بتایا کہ آج سے جو بارش ہورہی ہے وہ بحرعرب میں اُٹھنے والے طوفان  کے اثر  سے ہے۔

ریاست میں مزید  تین دنوں تک  تیز بارش ہونے کی پیش گوئی کے ساتھ ہی عوام کے ساتھ  انتظامیہ کی پریشانیوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ 

عوام کا کہنا ہے کہ ریاستی حکومت حیدر آباد۔ کرناٹک اور ممبئی۔ کرناٹک علاقہ میں سیلاب اور بارش کے متاثرین کو امداد فراہم کرنے میں پہلے ہی ناکام ہوچکی ہے۔ مرکزی حکومت سے امدادی رقم نہیں آئی ہے اور اس علاقہ میں سیلاب کا جائزہ لینے آرہے وزراء اور سیاسی لیڈروں پر عوام برہم ہورے ہیں۔ اب صبح ہی سے ریاست کے بیشتر علاقوں میں وقفہ وقفہ سے تیز بارش سے لوگ پریشان ہیں۔ 

عوام کی مانیں تو بی بی ایم پی نے اب تک شہر میں برساتی نالوں کی صفائی کا کام پورا  نہیں کیا ہے۔ ادھر ریاست کے دیگر اضلاع میں بھی لوگ سیلاب سے ابھی سنبھل نہیں پائے ہیں۔ اب اگر دوبارہ بارش ہوگی تو ان علاقوں میں مزید تباہی ہونے والی ہے۔ 

ریاست کے تمام آبی ذخیرے زیر آب ہیں اور آبی ذخیروں سے افزود پانی بہائے جانے سے سیلاب کی کیفیت طاری ہے۔ دوبارہ تیز بارش سے مزید پانی بہائے جانے پر حالات مزید پریشان کن ہونے کے خطرہ سے لوگ احتیاطاً ندی کنارے کے دیہات خالی کر کے محفوظ مقامات پر منتقل ہورہے ہیں۔ 


Share: